Untitled

اپنا سب کچھ تری نظروں پہ نچھاور کر کے
اپنی آنکھیں تری صورت سے میں آباد کروں سانس کی لے ہے کہ منہ زور نشے کے جھونکے
دل کی دھڑکن ہے کہ دستک ہے ترے خوابوں کی
جیسے بے ساختہ نس نس میں لہو رقصاں ہو
جیسے احساس میں بس جائے کسی کی خوشبو جیسے یہ شام ستاروں کی کوئی منزل ہے
جیسے ان لمحوں میں لرزاں ہے تصور کا بدن
جیسے یہ بزمِ سخن بھی ہے کوئی سادہ سی
ایک ناکام سعی تیری ثناء خوانی کی
کس کی جرات ہے کہ تفسیر کرے حسن ترا
تو کہ بت ہو کے بھی غافل نہیں خاموش نہیں
جیسے لمحوں میں اتر آئی ہے صدیوں کی طلب
میری حیرت کا یہ عالم کہ مجھے ہوش نہیں اپنا سب کچھ تیری نظروں پر نچھاور کر کے
اپنی آنکھیں تری صورت سے میں آباد کروں

Rate this poem: 

Reviews

No reviews yet.